علاج بالحکمہ — صحت اور خوشحالی کا سفر
تمام تحریریںتحقیقات علاج بالغذاء food as medicin

Elaj bil ghiza ki ahmiyat or wusat ? علاج بالغذا کی اہمیت اور وسعت

حکیم صابر ملتانی 13 اکتوبر، 2026

علاج بالغذا اہم ہے کیونکہ غذا زندگی کی ضرورت، صحت کی بنیاد اور انسانی کردار و شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

خداوند کریم نے بھوک پیدا کی ہے تاکہ انسان کو اپنی ضرورت غذا کا احساس ہو لیکن بھوک میں یہ جو خوبیاں ہیں انسان نے ان کو نظر انداز کر کے اپنی غذائی ضرورت کا دارومدار اپنی خواہشات پر مقرر کر دیا ہے یعنی جس چیز کو دل چاہا جب بھی چاہا کھا لیا اس طرح رفتہ رفتہ بھوک کا تصور ہی ختم کر دیا اس طرح ضرورت غذا اور خواہش غذا کا فرق ہی ختم ہو گیا لیکن قدرت کے فطری قوانین ایسے ہیں جو لوگ ان کی پیروی نہیں کرتے یا ان کو سمجھے بغیر زندگی میں من مانی کرتے ہیں تو اس کا نتیجہ امراض کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے
تاریخی اہمیت
جمہور حکما اور اطباء متقدمین و متاخرین بلکہ ہر دین کے علماء کا بھی اس حقیقت پر اتفاق ہے کہ بھوک ایک مرض ہے اور اس کا علاج حسب ضرورت اور مناسب غذا کا کھانا ہے دنیا میں کوئی بھی ایسا مذہب نہیں ہے جس نے غذا کی اہمیت و ضرورت اور استعمال پر کچھ نہ کچھ نہ لکھا ہو اور اسلام میں تو اس قدر لکھا گیا ہے کہ اس پر ایک طویل کتاب بن سکتی ہے اسلام نے اس کو اس قدر وسعت اس لیے دی ہے کہ
1 غذا سے انسانی کردار پیدا ہوتا ہے
2 غذا زندگی کی ضرورت ہے
3 رزق اللہ تعالی کے ذمہ ہے جن لوگوں کی ان حقائق پر نظر ہے وہ شخصیت اور قوم کی تعمیر کے لیے بڑا کام کرتے ہیں
اقتباس تحقیقات علاج بالغذا صفحہ 23 حکیم صابر ملتانی رحمہ اللہ علیہ

علم کو عمل میں بدلیے

اپنے مزاج کے مطابق غذائی رہنمائی حاصل کیجیے اور صحت کے سفر کا آغاز کیجیے۔