kiya kisi dawa sy bhi khoon ban sakta hy ? کیا کسی دوا سے بھی خون بن سکتا ہے ؟

کچھ ادویات خون کے بننے کے عمل میں مدد دے سکتی ہیں، لیکن خون کی بنیادی تشکیل کے لیے جسم کو ضروری غذائی اجزاء بھی درکار ہوتے ہیں۔
انسان اور ہر قسم کے حیوانات کا خون صرف غذا سے پیدا ہوتا ہے کسی دوا اور زہر سے نہیں بن سکتا حکماء متقدمین اور متاخرین سب اس کی تصدیق کرتے ہیں اور دنیا کی کوئی سائنس اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتی دوسرے یہ حقیقت ہے کہ زندگی کا دارومدار صرف صحیح اور مکمل خون پر قائم ہے اس میں بھی کسی دوا اور زہر کو دخل نہیں ہے تیسرے یہ حقیقت بھی مسلمہ ہے کہ ہر جسم کی نشو و ارتقا اور تقویت صرف خون پر قائم ہے جب ان حقائق سے ثابت ہے کہ زندگی وقوت اور نشو و ارتقا صرف خون پر قائم ہے اور خون غذا سے پیدا ہوتا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ انسانی صحت کا دارومدار غذا کی بجائے دوا پر رکھا جائے یہی وجہ ہے کہ ایورویدک اور طب یونانی میں نہ صرف علاج کی ابتدا میں غذا کی بے حد تاکید ہے بلکہ دوائی علاج میں پرہیز اور خاص قسم کی اغذیہ کے لیے مجبور کیا گیا ہے اور کسی قسم کے علاج میں اگر پرہیز اور خاص قسم کی اغذیہ کو نظر انداز کر دیا جائے تو یقینا علاج ناکام رہتا ہے یہی فطرت ہے
ایورویدک اور طب یونانی میں جسم انسان اور خون کا تجزیہ دوشوں اور اخلاط کے ذریعے کیا گیا ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ یہ دوش اور اخلاط غذا سے تیار ہوتے ہیں مختلف قسم کی اغذیہ مختلف اقسام کے دوش اور اخلاط پیدا کرتی ہیں جب غذا میں خاص قسم کے اجزاء کم و بیش ہو جاتے ہیں یا ان کا مقام بدل جاتا ہے تو امراض پیدا ہو جاتے ہیں جب ان دوشوں اور اخلاط کو درست کر لیا جائے تو امراض رفع ہو جاتے ہیں
جہاں تک ادویات اور زہروں کا تعلق ہے ان کا اثر صرف اعضائے جسم پر ہوتا ہے جس پر ان کے افعال کی کمی بیشی اور تحلیل ضرور ہوتی ہے وہ خون میں بھی شامل ہو جاتے ہیں مگر خون کا جزو نہیں بنتے اور اگر جسم میں طاقت ہو تو وہ جسم سے خارج ہو جاتے ہیں گویا ادویات اور زہروں کا اثر جسم پر صرف اعضاء کے افعال کی وجہ سے ہوتا ہے اور جب دوا یا زہر کا اثر ختم ہو جاتا ہے تو افعال بھی اپنی حالت پر لوٹ اتے ہیں گویا ان کا اثر اعضاء اور جسم پر بالکل عارضی ہوتا ہے جسم پر مستقل اثر صرف خون کے کیمیائی اجزاء کا ہوتا ہے جو خون میں پیدا ہوتے ہیں اور خون غذا سے پیدا ہوتا ہے یہی مکمل اور مستقل علاج ہے
یاد رکھیں کہ دواء سے علاج ہمیشہ عارضی اور وقتی ہوتا ہے جس کا فائدہ اس کے اثرات کے ختم ہو جانے کے بعد رفع ہو جاتا ہے دوا سے علاج اس وقت مکمل ہو مستقل طور پر کامیاب ہو سکتا ہے جب اس کے ساتھ خون کے ان کیمیائی اجزاء کو بھی پورا کیا جائے جو اس میں کم ہو گئے ہیں یہ وہ علاج کا فطری اصول ہے جس پر ایورویدک اور طب یونانی کا لازمی قانون ہے
اقتباس تحقیقات علاج بالغذا مصنف حکیم صابر ملتانی رحمہ اللہ علیہ
